ہمارے مقاصد
(بابا: عبداللہ بن ہارون ( اعجاز احمد     
ویلفیئر:۔ ا نسانیت کی بھلائی     
سینٹر:۔ محفلِ علاج ، فری ڈسپنسری ، ایمرجنسی ایمبولینس   کا قیام     
، الٹراساؤنڈ ، کمپیوٹر سینٹر ، اقراء اسکول اور عمرہ                    

 

بنانے کا مقصد اس بات کو ثابت کرنا ہے ۔ کہ انسان کے WebSite ہمارا
دوبارہ داخل  نہیں ہو سکتی ہیں انسان کے جسم میں  میں روح  جسم
 صرف اور  صرف جنات داخل ہوتے ہیں۔   

 

جادوکیاہے
بد نظرِاور حسد
 جنات اور شیطان شیاطین
 

 

بد نظرِاور حسد اللہ نے انسانی نظر میں بڑی تاثیر رکھی ہے، دیکھنے والے کی آنکھوں سے زہر نکل کر نظر لگنے والے کے جسم میں سرایت کرجاتا ہے ۔ جس سے وہ مختلف بیماریوں اور مصائب کا شکار ہوجاتا ہے۔ نظر کا لگ جانا برحق ہے اور قرآن و حدیث میں اس کی حقیقت پرواضح دلائل موجودہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: *سورۃ یوسف:۶۷،۶۸ *سورۃالفلق , سورۃ القلم:۵۱ حدیث کی روشنی میں ’’ نظر لگنا حق ہے۔(صحیح البخاری،حدیث:۵۷۴۰) نظر سے اللہ کی پناہ طلب کیا کرو،کیونکہ نظر لگ جانا حق ہے۔‘‘(سنن ابن ماجہ ،حدیث:۳۵۰۸) ’’ نظر حق ہے اور اگر تقدیر سے کوئی چیز سبقت لے جاسکتی تھی تو وہ نظرہے، اور جب تم میں سے کسی ایک سے غسل کرنے کا مطالبہ کیا جائے تو غسل کر لیا کرو(تاکہ غسل کے پانی سے وہ شخص غسل کر سکے جسے تمہاری نظر لگ گئی ہے)۔‘‘(صحیح مسلم،حدیث:۲۱۸۸) ’’ہاں! اور اگر تقدیر سے کوئی چیز سبقت لے جانے والی ہوتی تو وہ نظر ہے۔‘‘(جامع الترمذی ، حدیث:۲۰۵۹ ) ’’ بے شک نظر اللہ کے حکم سے انسان پر اثر انداز ہوتی ہے، حتیٰ کہ وہ اگر ایک اونچی جگہ پر ہو تو نظر کی وجہ سع نیچے گرسکتا ہے۔‘‘(مسندالبذار، حدیث: ۳۹۷۲) ’’نظر کا لگنا حق ہے اور یہ انسان کو اونچے پہاڑ سے نیچے گرا سکتی ہے۔‘‘(مسند احمد: ۱/۲۷۴) ’’ نظر آدمی کو قبر تک اور اونٹ کو ہانڈی تک پہنچا دیتی ہے۔‘‘(سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ، حدیث : ۱۲۴۹) ’’اللہ کی قضا اور تقدیر کے بعد سب سے زیادہ نظر کی وجہ سے میری امت میں اموات واقع ہوں گی۔‘‘( وسلملۃ الاحادیث الصحیحۃ حدیث :۷۴۷) سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ رسول اکرم نظر کی وجہ سے دم کرنے کا حکم دیتے تھے۔(صحیح البخاری حدیث : ۲۱۹۵) سیدنا انس کہتے ہیں کہ رسول اکرم نے نظر اور بچھو وغیرہ کے ڈسنے سے اور پسلی پر نکلنے والے دانوں پر دم کرنے کی اجازت دی ہے۔(صحیح مسلم،حدیث : ۲۱۹۶) ایک لڑکی کے چہرے پر کالے یا پیلے رنگ کا نشان دیکھا ’’تو آپ نے فرمایا: اسے نظر لگ گئی ہے ،اس پر دم کرو۔‘‘( صحیح البخاری، حدیث: ۵۷۳۹) آپ نے اسمانیت عمیس سے پوچھا:’’ کیا وجہ ہے کہ میرے بھتیجے کمزور ہیں، کیا فقروفاقے کا شکار ہیں؟‘‘۔ انھوں نے کہا نہیں، بلکہ انھیں نظر بہت جلد لگ جاتی ہے۔ یہ سن کر رسول اکرم نے فرمایا: ’’ان پر دم کیا کرو۔‘‘(صحیح مسلم، حدیث : ۲۱۹۸) حافظ ابن کثیر کہتے ہیں: ’’نظر کا اللہ کے حکم سے لگنا اور اثر انداز ہونا حق ہے۔‘‘(تفسیر ابن کثیر (دارالسلام) : ۴/۵۲۶) حافظ ابن حجر کہتے ہیں : ’’ نظر کی حقیقت کچھ یوں ہے کہ ایک خبیث فطرت انسان اپنی حاسدانہ نظر جس شخص پر ڈالے تو اسے نقصان پہنچ جائے۔‘‘ (فتح الباری (دارالسلام) : ۱۰/۲۴۶) امام ابن الاثیر کہتے ہیں : ’’ کہا جاتا ہے کہ فلاں آدمی کو نظر لگ گئی ہے ایسا اس وقت ہوتا ہے جب دشمن یا حسد کرنے والا انسان اس کی طرف دیکھے اور اس کی نظریں اس پر اثر انداز ہوجائیں اور وہ ان کی وجہ سے بیمار پر جائے۔‘‘(النھا ےۃ : ۳/۳۳۲) نظر تین مراحل : * سب سے پہلے دیکھنے والے شخص میں کسی چیز کے متعلق حیرت پیدا ہوتی ہے، * پھر اس کے ناپاک نفس میں حاسدانہ جذبات پیدا ہوتی ہے، * پھر ان حا سدانہ جذبات کا زہر نظر کے ذریعے سے منتقل ہوجاتا ہے۔(زار المعار : ۴/۱۶۵۔۱۶۷) نظر اور حسد میں فرق ۱۔ ہر نظر لگانے والا شخص حاسد نہیں ہوتا ہے، لیکن ہرحاسد نظر لگانے والا ہوتاہے۔ اسی لیے اللہ تعا لیٰ نے سورۃالفلق میں حاسد کے شر سے پناہ طلب کرنے کا حکم دیا ہے۔ ۲۔ حسد ، بغض اور کینے کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس میں یہ خواہش پائی جاتی ہے کہ جو نعمت دوسرے کو ملی ہوئی ہے ، وہ اس سے چھن جائے اور حاسد کو مل جائے ۔ ۳۔ حاسد کسی متوقع کام کے متعلق حسد کر سکتا ہے جب کہ نظرِبد لگانے والا کسی موجود چیز ہی کو نظر لگاسکتا ہے۔ ۴۔ انسان اپنے آپ سے حسد نہیں کر سکتا، البتہ اپنے آپ کو نظر لگاسکتا ہے۔ ۵۔ حسدصرف کینہ پر ورشخص ہی کرتا ہے جب کہ نظر ایک نیک آدمی کی بھی لگ سکتی ہے۔ نظر سے بچاؤ کا طریقہ نظر سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان جب کسی چیز کو دیکھے اور اسے وہ پسند آجائے تو زبان سے ’’ ماشاء اللہ ‘‘ یا ’’ بارک اللہ ‘‘ کے الفاظ بولے تاکہ اس کی پسندیدگی کی نظر کا برا اثر نہ ہو۔ (سنن ابن ماجہ ، الطب،باب العین ، حدیث : ۳۵۰۹) رسول اکرم جنات اور انسانوں کی نظر سے پناہ طلب کرتے تھے، پھر جب معوذ تین ( سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) نازل ہوئیں تو نبی کریم ان کو پڑھنے لگے اور باقی دعائیں آپ نے چھوڑدی تھیں۔(جامہ التر مزی ،حدیث : ۲۰۵۸) نبی اکرم نے ایک لڑ کی کو دیکھا، اس ک چہرے پر سیاہ نشان تھا، چنانچہ نبی کریم نے فرمایا: ’’ اس کو دم کرو کیونکہ اس کو نظر لگ گئی ہے۔‘‘(باب رقیۃ العین ، حدیث : ۵۷۳۹) حافظ ابن حجر فرماتے ہیں : ’’کہا جاتا ہے کہ یہ سیاہ نشان، جنوں کی نظر کی وجہ سے تھا۔‘‘(فتح الباری ( دارالسلام) : ۱۰/۲۴۹) جس طرح انسان کی نظر اثر انداز ہوتی ہے، اسی طرح جن کی نظر بھی اثر انداز ہوتی ہے، اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ جب بھی کوئی کام کرے تو ’’ بسم اللہ ‘‘ پڑھ لیا کرے تاکہ جنوں اور انسانوں کی نظرِبد کی تاثیر سے بچ سکے۔ نظر کا علاج اس کے علاج کے کئی طریقے ہیں، ان میں سے درجہ ذیل یہ ہیں: ۱۔ جس شخص کی نظر لگی ہو، اگر اس کا پتا چل جائے تو اسے غسل کرنے کا کہا جائے ، پھر جس پانی سے اس نے غسل کیا ہو، اسے نظر سے متاثر ہونے والے شخص پر بہادیا جائے۔اس طرح ان شاء اللہ شفا ہوگی۔ ۲۔ سیدنا ابو امامہ کہتے ہیں کہ میرے باپ سیدنا سَھْل بن حْنَیف نے غسل کا ارادہ کیا۔ جب انھوں نے قمیض اتاری تو سیدنا عامر بن ربیعہ ان کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ میرے والد کا رنگ انتہائی سفید تھا اور جلد بہت خوب صورت تھی ۔ سیدنا عامر نے کہا، میں نے آج تک اتنی خوب صورت جلد کسی کنواری لڑکی کی بھی نہیں دیکھی۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ سیدنا سہل بن حنیف کو سخت بخار شروع ہوگیا۔ چنانچہ نبی اکرم کو یہ قصہ بتایا گیا اور آپ کو یہ بھی بتایا گیا کہ سہل کی حالت یہ ہے کہ وہ سر بھی نہیں اٹھاسکتے۔ نبی کریم نے پوچھا ، تمھیں کسی پر شک ہے؟ انھوں نے کہا ، جی ہاں! عامر بن ربیعہ پر شک ہوسکتا ہے ۔ آپ نے انھیں بلایا اور ناراضی ظاہر کرتے ہوئے فرمایا: ’’ تم میں سے کوئی ایک کیوں (نظر سے) اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے؟ ۔ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی میں ایسی بات دیکھے جو اسے پسند آئے تو وہ اس کے لیے برکت کی دعا کرے۔‘‘ پھر نبی نے پانی منگوایا اور سیدنا عامر کو وضو کرنے کا حکم دیا۔ تب سیدنا عامر نے اپنا چہرہ، ہاتھ، کہنیاں،گھٹنے،پاؤں اور اپنی چادر کے اندرونی حصے دھوئے ، پھر نبی کے حکم سے وہ پانی سیدنا سہل شفایاب ہوگئے۔(سنن ابن ماجہ،حدیث : ۳۵۰۹ ) امام ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ ہمارے زمانے کے علماء نے اس غسل کی کیفیت یہ بیان کی ہے: ’’ جس آدمی کی نظر لگی ہو ، اس کے سامنے ایک برتن رکھ دیا جائے۔ اس میں وہ سب سے پہلے کلی کرے اور پانی اسی برتن ہی میں گرائے۔ پھر اس میں اپنا چہرہ دھوئے ، بائیں ہاتھ کے ذریعے سے اپنی دائیں ہتھیلی پر پانی بہائے، پھر دائیں ہاتھ کے ساتھ بائیں ہتھیلی پر پانی بہائے، پھر پہلے دائیں کہنی پر پھر بائیں کہنی پر پانی بہائے،پھر بائیں ہاتھ سے دایاں پاؤں دھوئے، پھردائیں ہاتھ سے بایاں پاؤں دھوئے ،پھر اسی طرح گھٹنوں پر پانی بہائے، پھر اپنی چادر یا شلوار وغیرہ کا اندرونی حصہ دھوئے،اس پورے طریقے میں اس بات کا خیال رکھے کہ پانی برتن ہی میں گرتارہے، اس کے بعد جس شخص کو نظر لگی ہو، اس کے پچھلی جانب سے وہ پانی ایک ہی بار بہادیا جائے۔(السنن الکبری للبیھقی : ۹/۳۵۲) ’’جس شخص کی نظر کسی کو لگ جاتی تھی، اسے غسل کرنے کا حکم دیا جاتا تھا پھر اس پانی سے مریض کو غسل کرادیا جاتا تھا۔‘‘ ( سنن ابی داود،حدیث : ۳۸۸۰) جس شخص کی نظر کسی کو لگ گئی ہو، وہ مریض کے لیے غسل یا وضو کرے۔ *حافظ ابنِ قیمؒ فرماتے ہیں: ’’ جادو خبیث روحوں کی تاثیرات، ان کی طرف طبیعت کے میلان اور اثر کو قبول کرنے کی استعداد کا مجموعہ ہے۔حقیقت میں طبیعت کا یے میلان اور اثرات کو جلد قبول کرنا ہی جادو کے اثر کو شدید تر بنا دیتا ہے۔ جادو کا اثرکبھی جسم کے خاص حصے تک ہی محدود ہوتا ہے۔ایسی صورت میں جسم کے اس مخصوص حصے پر سینگی لگوانا، جہاں جادو کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہو، بہترین علاج ہے۔بشر طیکہ سینگی کا استعمال اسی طریقے پر کیا جائے جو کہ مطلوب ہے۔‘‘(زارالمعار :۴/۱۲۵،۱۲۶)
جنات ویڈیو
2010 سالانہ تقریب
دعائیں